ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوک سبھا انتخابات سے پہلے نوٹ بندی پر گھر سکتی ہے مودی حکومت، آر ٹی آئی سے ہوا ہے بڑا انکشاف

لوک سبھا انتخابات سے پہلے نوٹ بندی پر گھر سکتی ہے مودی حکومت، آر ٹی آئی سے ہوا ہے بڑا انکشاف

Mon, 11 Mar 2019 23:32:27    S.O. News Service

نئی دہلی،11 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کیا نومبر 2016 میں وزیر اعظم نے نوٹ بندی کا اعلان آر بی آئی کی منظوری کے بغیر کر دیا تھا؟ دکن ہیرالڈ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق آر ٹی آئی سے ملی معلومات یہی بتاتی ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ آر بی آئی بورڈ کی میٹنگ نوٹ بندی کے اعلان کے صرف ڈھائی گھنٹے پہلے شام 5 بج کر تیس منٹ پر ہوئی تھی اور بورڈ کی منظوری ملے بغیر وزیر اعظم نے نوٹ بندی کا اعلان کر دیا تھا۔آر بی آئی نے 16 دسمبر، 2016 کو حکومت کو پیشکش کی منظوری بھیجی یعنی اعلان کے 38 دن بعد آر بی آئی نے یہ منظوری بھیجی ہے۔آر ٹی آئی ایکٹوسٹ وینکٹیش نائک کی طرف سے فراہم کی گئی اس معلومات میں اور بھی اہم اطلاعات ہیں۔اس کے مطابق وزارت خزانہ کی تجویز کی بہت سی باتوں سے آر بی آئی بورڈ اتفاق نہیں کیا۔وزارت کے مطابق 500 اور 1000 کے نوٹ 76 فیصد اور 109 فیصد کی شرح سے بڑھ رہے تھے جبکہ معیشت 30 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی تھی۔ آر بی آئی بورڈ کا ماننا تھا کہ افراط زر کو ذہن میں رکھتے ہوئے بہت معمولی فرق ہے۔آر بی آئی کے ڈائریکٹرز کا کہنا تھا کہ کالا دھن کیش میں نہیں، سونے یا پراپرٹی کی شکل میں زیادہ ہے اور نوٹ بندی کا کالے دھن کے کاروبار پر بہت کم اثر پڑے گا۔ اتنا ہی نہیں، ڈائریکٹرز کا کہنا تھا کہ نوٹ بندی کا معیشت پر برا اثر پڑے گا۔اس انکشاف کے بعد ایک بار پھر نوٹ بندی کو لے کر سوال کھڑا ہو گیا ہے ایک طرف جہاں مودی حکومت نوٹ بندی کے فیصلے کو کامیابی بتا رہی ہے اور دعوی کر رہی ہے کہ اس سے کالا دھن اور بدعنوانی پر لگام لگانے میں کامیابی ملی ہے وہیں حکومت اور آر بی آئی کے درمیان اختلافات کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔غور طلب ہے کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کو لوک سبھا انتخابات میں پارٹی اور اپوزیشن دونوں ہی بڑا مسئلہ بنا رہی ہیں۔لیکن اب آر ٹی آئی سے ہوئے اس انکشاف کے بعد مودی حکومت پھر سوالوں کے گھیرے میں ہے۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی کا مختصر اور میڈیم درجے کی صنعتوں پر برا اثر پڑا ہے ملک کی ترقی کی شرح کم ہو گئی ہے۔


Share: